Thursday, 14 October 2021

ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام کی بحالی ناگزیرہے

ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام  کی بحالی ناگزیرہے
@KhurramAJK تحریر:  خرم جمال شاہد

جمہوریت کی بنیادی تعریف  یہ ہے کہ عوام کی حکومت،  عوام کے لیے،  عوام کے ذریعے  ہو۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ تب ممکن ہو گاجب عوام کوبااختیار کرکے حکومت میں شامل کیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز کی آزادی کو 75سال کا عرصہ گزر گیا لیکن اب تک جمہوریت کچھ بااثر خاندانوں کی سیاست تک محدود ہے۔  اب تک  ملک عزیز میں عام آدمی بلخصوص نوجوانوں کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے بجائے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔  عوام کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے لیئے  صرف ایک ہی حل بچتا ہے وہ ہے بلدیاتی نظام کی بحالی اور اس کی فعالیت۔  بلدیاتی نظام ہر ملک کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد اور جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔  فعال اور موثربلدیاتی نظام ملکی ترقی کا ضامن ہے۔  دنیا کے اکثر ممالک میں بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کی وجہ سے، لوکل باڈیز کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔  جب کہ جن ملکوں میں یہ نظام موجود نہیں یا فعال نہیں وہاں مقامی لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اوروہ ممالک زوال پذیر ہیں۔ 

بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اوراشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔  اختیارات، انتظامی امور اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی  (مقامی) سطح پرمنتقلی کے زریعے عوام کا بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔  اس صورت میں مقامی انتظامیہ، مقامی مسائل کی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ جبکہ محدود وسائل (فنڈز) کو اشتراکی ترقیاتی اپروچ کی بنیاد پر، بہتر طریقے سے علاقائی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔  موجودہ دور میں، سالانہ ترقیاتی پلان و ایم ایل اے فنڈ کو سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جاتا ہے،  جبکہ ان فنڈز کا صرف سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ اکثروبیشتر یہ فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگانے کے بجائے ووٹ خریدنے یا سیاسی کارکنان کو نوازنے کے لیئے استعمال ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فندز کو مقامی لوگوں کے مسائل اور موجود وسائل کے تناظر میں غیر سیاسی بنیادوں پرمختص کیا جا نا ضروری ہے۔  اس کا ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیئے۔ ہر سال علاقائی بلدیاتی باڈی یا کمیٹی کے ارکان عوام کے ساتھ مشاورت کریں اور مسائل کی نشاندہی کریں۔ سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یا مسئلہ کے حل کے لیئے تجویز اسمبلی ممبران کے پاس جانی چاہیئے، تاکہ وہ اسی بنیاد پر سالانہ ترقیاتی پلان /ایم ایل اے فنڈ کو مختلف مدات میں مختص کرسکے۔  اس کے علاوہ جب یہ عمل نچلی سطح پر نافذ ہوتا ہے تو یہاں سے عام لوگوں کی بہتر سیاسی تربیت ہوتی ہے اور وہ آگے کی سیاست کا حصہ بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر جب اچھا تربیت یافتہ ہو تو وہ عملی طور پر مستقبل میں اسمبلی / پارلمینٹ کا حصہ بن کر اپنی صلاحیت ملکی طرقی کے لیئے بروئے کار لاسکتا ہے۔

موجودہ حالات میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی یا غیر فعالیت کی وجہ سے اسمبلی ممبران ٹوٹی نلکہ، تقرری تبادلے، چھوٹی چھوٹی سکیمیوں اور تھانہ کچہری کی سیاست میں مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی زمہ داری   "ملکی امور، قانون سازری و آئینی ترامیم،  ترقیاتی بجٹ کا انتظام، پالیسی سازی اور اس کے موثرنفاذ " کو نبھانے سے قاصر ہیں۔  چونکہ اسمبلی میں کم تعلیم یافتہ ممبران ہونے کی وجہ سے، اسمبلی ممبران بلدیاتی نظام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکے ہیں جبکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم اور قانون سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے وہ پرانی روایتی استحصالی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک گلی محلے کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔  ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسمبلی ممبران مقامی مسائل کے حل کے لیئے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لاتی تاکہ ان کے سر سے ٹوٹی نلکہ، تھانہ کچہری، تقرری تبادلہ اور سکمیوں کا بوجھ ختم ہوتا اور وہ بھی دوسرے ممالک کے کے پارلیمنٹ ارکان کی طرح قانون سازی کرتے۔

بلدیاتی نظام عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا نظام مہیا کرتا ہے۔حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔  بلدیاتی نظام میں ایک اہم کام فنڈز کا مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال اور اس کی عوامی جوابدہی ہے۔  اس میں مقامی حکومتیں / باڈیز فنڈز کے شفاف خرچ اور آڈٹ کے زریعے جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ فنڈز سیاسی کارکنان کو نوازنے کے خرد برد کیئے جاتے ہیں  اور بدقسمتی سے ریاستی شعبہ  لوکل گورنمنٹ بھی اس کرپشن کا حصہ رہا ہے۔  جب تک بلدیاتی نظام نافذ اور فعال نہیں ہوتا تب تک اس خرد برد کو نہیں روکا جا سکتا۔

بلدیاتی نظام کیا ہے۔اس کی ابتدا کب ہوئی۔اس نظام کو پھلنے پھولنے کیوں نہیں دیا جا رہا۔اس نظام کے آنے سے عام عوام یا نچلی سطح کے سیاسی کارکن اور خود سیاسی پارٹیوں کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔یہ سب وہ سوالات ہیں جو ایک عام سیاسی کارکن کے ذہن میں اکثر اٹھتے ہیں لیکن وہ اپنے زاتی مفاد یا سیاسی اکابرین /  راہنماؤں کی ناراضگی کی ڈر کی وجہ سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ (کیوں کہ سیاسی راہنماؤں کی نظر میں بلدیاتی نظام ایک ناقابل معافی جرم ہے)۔یہ نظام کئی صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔  ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان اسلامی ممالک میں معروف ہیں وہ 1990کے عشرے میں بلدیاتی انتخابات سے  استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔انڈونیشیا میں بلدیاتی اداروں سے تربیت یافتہ جوکوویدو  سربراہ مملکت کے منصب تک پہنچے۔ جبکہ بر صغیر میں انگریزدور 1846سے کچھ حد تک لوکل باڈیز نے مختلف شکلوں میں کام کیا۔1947میں پاکستان اور ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں یہ نظام موجود تھاا س کو ختم کر کے تمام اختیارات ختم کر دیے گے،ختم کی جانے والی کمیٹیوں کے ممبران اور چیئرمین کو بذریعہ الیکشن عوام منتخب کرتی اور سماجی بہبود کے 37کاموں کو ان کمیٹیوں کے زیر انتظام کر دیا گیا جن میں سماجی بہبود،صحت،پانی،صفائی و دیگر بنادی انفراسٹکچر و غیرہ شامل تھے۔  ان کے ساتھ ساتھ کمیٹیاں 29اشیاء پر ٹیکس لگانے کا بھی اختیار رکھتی تھیں، یہ سسٹم جب تک ایوب خان رہے چلتا رہا لیکن پہلی عوامی حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر اس نظام کو ختم کردیا۔  جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر عنان حکومت سنبھالا تو انہوں نے اس نظام کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا جو اس سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم تھا۔  جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں دوبارہ بننے والی جمہوری حکومتوں نے  اس نظا م کا خاتمہ کر دیا۔ اس دوران جمہوری حکومتیں گزری لیکن کوئی بھی حکومت اس نظام کو دوبارہ بحال یا جاری رکھنے میں سنجیدہ نہ ہوئی۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمر جنسی نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس نظام کومذید تبدیلیوں کے ساتھ رائج کیا اب اس نظام میں چیئر مین اور وائس چیئرمین کی جگہ ناظم اور نائب ناظم نے لے لی۔  2001میں نئے لوکل گورنمنٹ آرڈینس کے تحت لوکل باڈیز کے الیکشن کروائے گیااور تمام اضلاع کو ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اور ضلع ناظم کے حوالے کر دیا گیا۔  ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو ضلع ناظم کے سپرد کر دیا گیا۔

پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بہت قلیل مدت کے لیئے بلدیاتی نظام رائج رہا ہے لیکن کبھی بھی ان کو باقاعدہ اختیارات کنہیں ملے۔  1960میں جنرل ایوب اور پھر 1982میں صدر ضیاء الحق کے دور میں یہاں بریگیڈیر حیات خان نے بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔  دوبارہ1986اور1991میں یہاں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں  بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ان ادارہ جات کو توڑ دیا اور اس وقت سے لیکر آج تک دوبارہ یہ نظام بحال نہیں ہو سکا۔  لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعتیں مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر بلدیاتی نظام کو بحال نہیں کیا۔

بلدیاتی نظام کی  فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔  سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حدتک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔  اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا  اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔  ممبران اسمبلی کا کام قانون سازی ہے چونکہ قانون سازی اور قومی سطح کی پالیسز بنانا ہوتا ہے لیکن یہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان ممبران کو ٹوٹی،نلکہ اور تبادلہ کی سیاست کرنی پڑتی ہے۔بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں یہ ممبران اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔  اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی۔چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہو تا ہے۔اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیزدے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقہ میں کیا ڈویلپمنٹ  ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو  مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے،اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

آزاد کشمیر میں بلدیاتی نظام کو ختم ہوئے پچیس سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔  نام نہاد جمہوری حکمران عوام کو جھوٹے وعدے کرکے اقتدار کی جنگ میں مشغول ہیں۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو بحال کیاا ور بلدیاتی انتخابات کروائے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو نے والے جمہوری حکمران بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیئے چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی خواجہ فاروق وزیر بلدیات کررہے ہیں۔ امید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دور کی طرح اس دفعہ عوام پر زیادتی کے مرتکب نہیں ہونگے بلکہ وہ اس نظام کی بحالی کے زریعے عوام میں اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی، سماجی کارکنان، صحافی اوروکلاء بلدیاتی نظام کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

☑️

مصنف  "خرم جمال شاہد"  کا تعارف

خرم جمال شاہد  ایک   مصنف   اور ریسرچر ہیں ۔  انہوں نے سماجی مسائل ، لوگوں کو بہتر سماجی خدمات کی فراہمی اور ڈویلپمنٹ  پر ریسرچ پیپر لکھے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر ترقیاتی شعبے ، سماجی مسائل اور سیاحت کے شعبے پ آرٹیکلز لکھے ہیں۔  سوشل میڈیا  اوربلاگز  و دیگر ویب سائٹس کے لیئے مواد لکھتے ہیں۔

خرم جمال شاہد ایک معروف نوجوان سماجی کارکن ہیں ، وادی گریز نیلم ، آزاد جموں وکشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ مینجمنٹ (ایم بی اے-فنانس) میں پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے کمزور لوگوں کو بااختیار بنانے اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لیئے 2009میں ایک سماجی ادارے  "ادارہ برائے پائیدار ترقی" کی بنیاد ڈالی۔ 2009 سے اسی  سماجی ادارے   میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہزاروں لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے پر سرگرم عمل ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن رہے ہیں ، اور پاکستان میں انسانی حقوق کی مختلف تحریکوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے 2013 میں بچوں کے حقوق کے لیئے آزاد جموں و کشمیر میں چائلڈ رائٹس موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف شعبہ جات  (تعلیم ، صحت ، معاش ، توانائی ، پانی ، ماحول اور حقوق) پے خدمات سرانجام دیے ہیں۔

خرم جمال شاہد ایک نوجوان سیاستدان بھی  ہیں ۔ عوامی حقوق کے لیئے وہ ہر پلیٹ فارم پے آواز اٹھاتےرہے ہیں اوران مسائل کے حل کے لیئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وہ 2021 میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات  میں حصہ لےچکے ہیں ۔ ایک سماجی و سیاسی کارکن ہونے کے ناطے  انہوں نے  نوجوانوں کو منظم کرنے اور عوامی حقوق کی جدوجہد  میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں  انہوں نے بانی  رکن   "کشمیر یوتھ کونسل" اور "نیلم یوتھ فورم" کاقیام عمل میں لایا اور آج یہ فورم عوامی حقوق کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔

ان سے رابطہ کرنے لیئے
khurram@sdo.org.pk
https://twitter.com/KhurramAJK
https://facebook.com/KhurramAJK

Tuesday, 12 October 2021

آئیں گگئی وادی نیلم کی سیر کریں

 

سیاحتی بلاگ

آئیں گگئی وادی نیلم کی سیر کریں

مصنف: خرم جمال شاہد

 

وادی نیلم آزاد کشمیری قدرتی حسن سے مالا مال ہے قدرت خداوند نے یہاں بلند بالا پہاڑ، ندی نالے، آبشاریں، دلفریب جھیلیں، گلیشرز، چراگاہیں، جنگلات اور جنگلی حیات عطا کیے ہیں۔ نیلم ویلی میں سیاحت کے لیئے بے شمار جگہیں ہیں۔ آج میں آپ کو ایسے علاقے کے متعلقہ معلومات دینے لگا ہوں جہاں بہت کم سیاح گئے ہیں۔ جی ہاں یہ حسین وادی، گگئی کے نام سے جانی جاتی ہے۔

 

گگئی وادی گریس کی سب سے بڑی چراگاہ ہے جو وادی نیلم کے آخری حصے میں، سطح سمندر سے 6000 سے 13000 فٹ بلندی پرواقع ہے۔  یہ چراگاہ دو بڑے نالوں، ایک چھوٹی گگئی (ددگئی نالہ) اور دوسری بڑی گگئی نالہ پے محیط ہے۔ اس کے مشرق میں قمری استور، مغرب میں تاؤبٹ، مشرقی جنوب میں منحوس کنٹرول لائن و مقبوضہ جموں وکشمیر جبکہ شمال میں گجر نالہ پھولاوئی اورریاٹ استور کے علاقے واقع ہیں۔ سردیوں میں یہاں چھ سے آٹھ فٹ تک برف پڑتی ہے اور اس موسم میں زمینی راستے بلاک ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں دودھنیال، شاردہ اور وادی گریس کے مقامی لوگ مال مویشی لیکر جاتے ہیں۔ جبکہ یہاں آزادکشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں بکروال مال مویشی لے کرآتے ہیں۔ مئی سے لیکر ستمبر آخر تک لوگ یہاں مال مویشی کے ساتھ ہوتے ہیں۔

 

تو آئیں گگئی سیر کے لیئے   چلتے ہیں

دوستواس علاقےکو دیکھنے کے لیئے آپ اسلام آباد سے مظفرآباد سفر کریں گے وہاں سے نیلم ویلی کی اکلوتی شاہراہ پے سفر کرتے ہوئے تقریبا گیارہ گھنٹوں میں تاؤبٹ کے مقام پر پہنچیں سکیں گے۔ تاؤبٹ اس علاقے کو تفصیل سے دیکھنے کے لیئے بیس کیمپ کی حثیت رکھتا ہے۔ تاؤبٹ بالا سے آگے اس علاقے میں سڑک میسر نہیں صرف پیدل اور گھوڑے والا راستہ موجود ہے۔ جو ددگئی (چھوٹی گگئی) دیکھنا چاہتے ہیں وہ تاؤبٹ بالا سے مشرقی جنوب سمت میں نالے پر اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔

 

ددگئی نالہ ایک خوبصورت چراگاہ ہے یہاں کی مشہور چھوٹی چراگاہوں میں زیان، رتا پانی اور مسیتاں والی بیکیں معروف ہیں۔ رتا پانی کی معروف ہونے کی یہ وجہ ہے ہے پانی تو شفاف ہے لیکن اس پانی کے نیچے مٹی کا رنگ بلکل سرخ ہے۔ یہ سارا علاقہ بہت خوبصورت ہے۔ اس کے سامنے زیان (مقبوضہ کشمیر) کا علاقہ واقع ہے جو کہ وہاں کی گریز ویلی میں شامل ہے۔  (یہاں چراگاہ کو مقامی زبان میں "بیکیں" کہا جاتا ہے)

 

بڑی گگئی کا سفر مشرقی سمت میں شروع کریں گے۔ 11 جولائی 2021 کو میں اپنے دوستوں کے ہمراہ یہاں کے سفر پر نکلا۔ ہم نے گاڑی تاؤبٹ بالا پارک کی اور اپنے کپڑے بیگ وغیرہ اٹھائے اور پیدل سفر شروع کیا۔ اس نالے میں سب سے پہلے تاؤبٹ برادری کی بیکیں اوراس سے آگے پارما برادری کی بیکیں آتی ہیں۔ یہاں راستے میں شکر گڑھ نالا جنوبی سمت میں الگ ہوتا ہے۔ شکرگڑھ نالہ کا آخری بلندی والا علاقہ ریاٹ اور گجر نالہ سے ملتا ہے۔ اس نالہ میں زیادہ تر بکروال اپنے مال مویشی کے ہمراہ گرمیوں میں جاتے ہیں۔ اسی راستے میں شکر گڑھ نالے کے آغاز میں بکروالوں کی قدیمی قبرستان موجود ہے۔ گرمیوں میں اگر بکروال برادری سے کوئی فوت ہو جائے تو ان کو اسی قبرستان میں دفنایا جاتا ہے۔  قبرستان میں دعاء مغفرت کرکے ہم نے شکرگڑھ نالہ کراس کیا اور سیدھا مشرق میں آگے سفر جاری رکھا۔ آگے راستے میں ملک برادری کے کچھ لوگوں نے چائے پینے کی دعوت دی۔ تھکاوٹ کی وجہ سے بخوشی ان کی دعوت قبول کرنی پڑی۔ ان کے کیمپ میں بہت لذیز قسم کی دیسی چائے کے ساتھ گھی سے بنی ہوئی "چوری" کھائی۔ ان سے علاقائی گپ شپ کے بعد ہم نے اجازت چاہی۔ یہاں سے آگے "چھوٹی کھوڑیاں" اور "بڑی کھوڑیاں" بیک واقع ہیں۔ راستے میں خوبصورت آبشاریں، میدان، برفانی تودے اورشور کرتے ہوئے ندی نالوں کا نظارہ کرتے رہے۔ اور چار گھنٹے کے سفرکے بعد ہم بلورکسی "نالہ" کے شروع والے علاقے میں پہنچے۔   بلورکسی نالہ میں بھی لوگ مال مویشی لیکر جاتے ہیں۔ اس علاقے میں قیمتی پتھروں اور جڑی بوٹیوں کی بہتات ہے۔

ہمارا ارادہ تھا کہ شام تک ہم اس علاقے کی سب سے خوبصورت چراگاہ (بیک) جل کھٹ پہنچیں اور اس علاقے کی صبح و شام کے خوبصورت مناظر سے آنکھیں ٹھنڈی کر سکیں۔ یہاں سے آگے ہم نے ایک دشوار گزار پہاڑی علاقے سے سفر کیا اور مذید آدھا گھنٹے میں جل کھٹ پہنچ گئے۔ یہاں کے عارضی مکین بہت مہمان نواز تھے اس لیئے ہم نے اپنے ساتھ ٹینٹ اور کسی قسم کے سامان ساتھ لے جانے کی زحمت نہیں کی۔ میں چونکہ مقامی علاقے سے تعلق رکھتا تھا اور یہاں میرا سماجی و سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے پورے علاقے میں اچھی جان پہنچان تھی۔ رات قیام جل کھٹ ہوا، یہاں دیسی کڑی، دہی، گھی اور مکئی کی روٹی سے خاطر تواضع کی گئی۔ مختصر لیکن ایسے دیسی کھانوں کی جو لذت ہے وہ شاید فائیو سٹار ہوٹلوں کے کھانوں کی نہ ہو۔

 

  جل کھٹ میں مرناٹ، پھولاوئی اور دودھنیال سے گئے ہوئے سینکروں لوگوں کے ڈیرے موجود تھے۔ وہاں لوگ مال مویشی کے ساتھ خاصے مصروف ہوتے ہیں۔ لوگ مال مویشی کے ساتھ زرائع روزگار کے لیئے پہاڑی علاقے سے جڑی بوٹیاں نکالتے ہیں جو کہ مقامی طور پر مناسب داموں میں بیچی جاتی ہے۔ اس کی قانونی اور غیر قانونی نکاسی و ترسیل ایک الگ سے تفصیل طلب موضوع ہے۔  صبح فجر کے وقت بزرگ مرد و خواتین جاگتے ہیں اور نماز پڑھ کر ناشتہ اور پھر مال مویشی کو چرانے کا انتظام کرتے ہیں۔ شام کو مال مویشی واپسی پے جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکالا جاتا ہے۔ یہاں لوگ کھانے پینے کے لیئے لسی، دودھ، چائے، کڑی، ساگ اور چاول وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اکثر غذا دیسی اور خالص ہوتی ہے۔

 

اس علاقے میں جڑی بوٹیوں کے  ساتھ قیمتی پتھر بھی موجود ہیں۔ کچھ  لوگوں  یہاں لیز لے کر پتھر نکالتے ہیں جن میں زیادہ ٹورمالین، ابرق اور بلور کے پتھر شامل ہیں۔     جل کھٹ سے آگے لڑیاں اور سراٹ کے علاقے آتے ہیں یہاں سے آگے قمری ضلع دیامر کا علاقہ آتا ہے۔ اکثر گرمیوں میں قمری کے لوگوں کی آمدورفت اسی پیدل راستے سے ہوتی ہے وہ مقامی لوگوں سے ہلکا پھلکا کروبار بھی کرتے ہیں۔ قمری سے آگے منی مرگ اور پھر دیوسائی کے علاقے آتے ہیں۔ اسی لیئے یہ علاقہ حسین و جمیل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اہم خطہ ہے۔

 

یہ علاقے بہت خوبصورت ہیں اور  ان گنت  قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، وہاں گورنمنٹ کی لاپرواہی کی وجہ سے مقامی لوگ مختلف مسائل میں پریشان حال ہیں جس میں تین مسائل سر فہرست ہیں، تعلیم، صحت اور روزگار۔  اتنے بڑے علاقے جہاں گرمیوں میں ہزاروں لوگ بستے ہیں وہاں تعلیم اور صحت نام کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ حکومت کم از کم اس علاقے کے بیس کیمپ تاؤبٹ میں کم رورل ہیلتھ سنٹر (ہسپتال ) کا قیام عمل میں لائے تاکہ ان لوگوں کو بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ روزگار کی فراہمی کے لیئے حکومت معدنی وسائل اور شعبہ سیاحت میں انقلابی ادامات کرے تو بہتری  ممکن ہے۔

  

Friday, 8 October 2021

سیاحتی ولاگ، پھولاوئی وادی نیلم

سیاحتی ولاگ، پھولاوئی وادی نیلم

تحریر:   خرم جمال شاہد

گاؤں پھو لا وئی آزاد کشمیر ضلع نیلم تحصیل شاردہ یونین کونسل گریس  میں واقع ہے اس گا ؤں میں  12 ڈھو کیں ہیں۔ سطح سمندرسے اس گاؤں کی بلندی تقریبا 7 سے 12 ہزار فٹ ہے۔یہ پوری یونین کو نسل ضلع نیلم کے بلکل آخر میں آباد ہے اور نقطہ انجماد عمو ما منفی ڈگریوں پر رہتا ہے ارد گرد بڑے بڑے پہاڑ کھڑے ہیں جو سال کے آٹھ ماہ برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔  پھو لاوئی کے شمال میں شیشہ  پہاڑ(شیشہ کور) اونچے نیچے جنگلات سے ڈھکے پہاڑیاں اور ڈھلوان ہیں اس کے جنوب میں نیلم دریا بہتا ہے۔دریا کے ساتھ ساتھ نیلم روڈ واقع ہے دریا کے پار اوپر تک جنگل ہے جہاں سے مقبوضہ کشمیرکے ساتھ منحوس  کنٹرول لائن شروع ہوتی ہے ۔ گا ؤں کے مغرب میں دوکلو میٹر کے فاصلے پر جا نوئی کا گاؤں آباد ہے اورا س کے مشرق میں مرناٹ کا گاؤں آباد ہے۔پھو لاوئی گاؤں کے مشرقی ایریا دو بڑے نالے گرتے ہیں ان میں گجر نالہ اور دوسرا سر والے نالے کے نام سے مو سوم ہیں  ان دونوں نالوں کے ٹاپ(گلی) کراس کرنے کے بعد استور(گلگت) کے علاقے میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس گاؤں کی آبادی تقریبا ساڑھے چھہ ہزار افرادپرمشتمل ہے ۔اس گاؤں میں شین قبیلہ جات کے لوگ آباد ہیں جو اٹھارویں صدی کے وسط میں گلگت چلاس اور استورسے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔۔ان سارے کنبہ جات کی زبان شینا ہے جو آج تک جا ری ہے۔  اس کے بعد ہندکو بو لنے والے  لوگ بھی یہاں آباد ہوئے۔  یہاں تقریبا  95فیصد آبادشین قبیلہ جو شینا زبان بو لتے ہیں آباد ہیں اور 5 فیصد لوگ دوسری زبا ن بو لنے وا لو ں میں ہند کو گو جری پر مشتمل ہیں۔آبا دی کا 70 فیصد حصہ ان پڑھ ہے صرف 30 فیصد لوگ اردو اور اسلامی تعلیمات کے حصول کے لئے کو شاں ہیں۔


  

پھولاوئی ایک حسین علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کے جنگلات میں   دیودار، چیڑھ، کائل، فر، اخروٹ، برت،بیس،بنکھوڑ،بدلو،  سفیدہ،  باگنو، کاشپ اور بھرتھ اور برج شامل ہے۔  جبکہ یہاں جنگلی حیات مناسب تعداد یں موجود ہیں ان میں ہمالیائی روئنس (مشک نافہ)، کل بکرا (آئی بیکس)،برفانی چیتا، ریچھ،  بھیڑیا،  ترشول (مارموت)،  لینٹھ (مونال)، گلہری، برفانی مرغ، فاختہ اور لومڑی  ہیں۔ جبکہ یہاں پرپالتو جانور زویا اور یاک کی نایاب نسل پائی جاتی ہے۔  ان جگلی حیات کا تحفظ بہت ضروری ہے جس کا موجودہ وقت میں حفاظتی اقدامات  غیر تسلی بخش ہیں۔  یہاں بے بہا معدینیات ہیں جن میں قابل زکر  یاقوت، روبی، نیلم، بلور اور ابرق شامل ہیں۔  اس علاقے کے کئی لوگوں کا زریعہ آمدن  جڑی بوٹیوں کی خرید وفروخت ہے۔  یہاں زیادہ تر  مشروم(گچھی)، کٹھ، پتریس، مشک بالا، سمبل، چورا، کوڑی جڑی، کوڑھ، رتن جوگ، گگلدپ،جکی با دشاہ، کھینس اور مسلون پائی جاتی ہیں۔  اب  وقت آگیا ہے کہ ہم قدرتی وسائل کے پائدار اوردانشمندانہ استعمال کے ساتھ جنگل وجنگلی حیات کے فطری ماحول و حسن کو اجڑنے سے بچانا ہے۔  ہمیں جنگلی حیات،  فطری ماحول اور قدرتی وسائل کی اہمیت اجاگر کرنی چاہئے اور ان کی انسانی زندگی میں اہمیت اور اس کے نقصان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خطرات سے عوام میں شعور پیداکرنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ قدرتی ماحول کا تحفظ ہی اچھی انسانی زندگی کی بقاء ہے۔

دشوار گزار اور دور آفتادگی کی وجہ سے یہ خطہ تمام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے یہاں چونکہ پانچ ماہ برفباری کا دور رہتا ہے اس دوران اکلوتی نیلم روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیٗے بند ہو جاتی ہےاور یہاں کی لوکل آبادی کے لئے ذرائع آمدورفت محدود بلکہ ختم ہو جاتے ہیں چونکہ یہاں کی آبادی اپنی روز مرہ ضروریات راولپنڈی بزریعہ مظفرآباد سے لاتے ہیں۔  سردیوں میں روڈ کی بندش مقامی لوگوں کو پریشان کن حالات میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔  حکومت وقت بھی یہاں سیاحت کو فروغ   دینے میں ناکام رہی ہے۔ موجودہ  دور میں سوشل میڈیا کی سہولیات کی موجودگی میں ان علاقوں کی سیاحت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ علاقہ ڈویلپ ہو سکے۔

یہ علاقہ اپنے قدرتی حسن  اور خاص رسم و رواج کی وجہ سے سیاحت کے لیئے بہت زیادہ کشش رکھتاہے۔  یہاں سیر کے لیئے دو بڑے نالے موجود ہیں، سر نالا اور گجر نالا۔     ان علاقوں میں قدرتی چشمے، ندی نالے، گلیشئر، آبشاریں، جھیلیں اور فلک بوس برفانی پہاڑیاں ہیں جن میں قابل ذکر دومیل گلی، سروالی گلی اور ٹھوکی پاس کے گلیشئر اور جھیلیں ہیں۔  ان جھیلوں میں مچک جھیل (لیک)  زیادہ مشہور ہے جو سطح سمندر سے تقریباّ بارہ ہزار فٹ بلند ہے۔ اس کے علاوہ ڈک جھیل اور گجر نالا میں ایک خوبصورت جھیل ہے۔  آبشاروں میں ٹھوکی بیک کی سفید آبشاریں (شو ژر) مشہور ہیں۔ 

اگر آپ سیر کے لیئے جائیں تو مظفرآباد سے مین روڈ پے پھولاوئی تک گاڑی میں نو گھنٹے کا سفر ہے۔  پھولاوئی میں دو نوں نالے گجر نالا اور سر نالا الگ الگ سائیڈ پے واقع ہیں۔ گجر نالا کا سارا سفر پیدل طے کرنا ہے۔ گجر نالا سے آپ گھشاٹ ٹاپ کے راستے استور میر ملک جا سکتے ہیں۔ جبکہ آپ اگر سرنالا کا سفر کرنا چاہیں تو غاروں والی چراگاہ  (بچو بیک) تک جیپ پے سفر کر سکتے ہیں۔  وہاں سے آگے گھوڑوں پے سفر کیا جا سکتا ہے یا پیدل جا سکتے ہیں۔   اس نالا کے آخری چراگاہیں (بیکیں)  خوبصورت ہیں جہاں جھیلیں، آبشاریں اور گلیشرز موجود ہیں۔  بلخصوص مچک جھیل، دومیل پاس، سر بیک، ڈک جھیلاس نالا میں واقع ہیں۔ یہاں جاتے ہوئے کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جانا ضروری ہے۔ کچھ علاقوں میں مقامی لوگ  تین سے چار ماہ کے لیئے مال مویشی لے کر جاتے ہیں  اس لیئے یہاں رہائش کے لیئے عارضی کچے کمرے اور ٹینٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔  ٹوریسٹ حضرات کو اپنے ٹینٹ ساتھ رکھنے چاہیئں تاکہ یہاں باآسانی رہ کر اس علاقے کے حسن کو دیکھ سکیں۔




برائے رابطہ
03009773466
khurram@sdo.org.pk
https://twitter.com/KhurramAJK
https://facebook.com/KhurramAJK


Thursday, 7 October 2021

خرم جمال، زندہ باد (آفیشل ترانہ)

خرم جمال ۔۔۔۔زندہ باد ۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد

اک نئی سوچ ہے اک نئے خواب ہیں
اس چمن کے سبھی گوہر نایاب ہیں

اے  جوانو اٹھو ہاتھ میں ہاتھ دو
اپنے قائد خرم کا سبھی ساتھ دو

مل کے دو یہ صدا۔۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد ۔۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد


اینٹ  سے  ہر نئی اینٹ کو جوڑنا
مشکلوں میں کبھی ساتھ نہ چھوڑنا

مائیں بہنیں وطن کی تمہیں دیں دعا
اے   جوانو  نہ  اب  ہارنا  حوصلہ

بولو مل کے سبھی ۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد۔۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد

مل کے سارے چلو تم رہو جوش میں
سانپ ہیں آستیں میں رہو ہوش میں ۔۔۔

  وقت مشکل جو ہے یہ گزر جاۓ گا
تم  چلو  ساتھ ہر  پھول مسکاۓ گا ۔۔۔۔۔

   گیت گاؤ سبھی ۔۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد
خرم جمال زندہ باد

توڑ دو اب فقس کی سبھی جالیاں
ہاتھ میں لے چلو پھول کی ڈالیاں

ایک دوجے کا سارے سہارا لیۓ
مل کے سارے چلو ایک نعرہ لیۓ

مل کے دو یہ صدا ۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد ۔۔۔۔۔خرم جمال زندہ باد

شاعر:   محمد صدیق شاذؔ

Friday, 1 October 2021

نیلم کی آبرو ہے ذی احترام خرم (کمپین ترانہ)

انصاف کا لبادہ خرم جمال شاہد
ہنس مکھ کمال سادا خرم جمال شاہد
نیلم کی شان خرم نیلم کی آن خرم
نیلم کی آبرو ہے ذی  احترام خرم


میداں میں آگیا ہے آتے ہی چھا گیا ہے
سچ کی پکار خرم جھوٹوں کو ڈھا گیا ہے
ہر دلعزیز خرم ہر دل کو بھا گیا ہے


انصاف کا لبادہ خرم جمال شاہد
ہنس مکھ کمال سادا خرم جمال شاہد
نیلم کی شان خرم نیلم کی آن خرم
نیلم کی آبرو ہے  ذی  احترام خرم

مظلوم  کا مددگار  مجبور کا سہارا
اللہ کی مدد سے کشتی لگے کنارا
اس بار آزماؤ پھل محنتوں کا کھاؤ
دو ساتھ اس جواں کا قدرت کرے اشارہ


انصاف کا لبادہ خرم جمال شاہد
ہنس مکھ کمال سادا خرم جمال شاہد
نیلم کی شان خرم نیلم کی آن خرم
نیلم کی آبرو ہے  ذی  احترام خرم


خرم خزاں میں آیا آیا بہار بن کر
بے چین موسموں میں دل کا قرار بن کر
بازی گروں سے بچنا محتاط ہو کے رہنا
چونا لگا نہ دیں پھر بااختیار بن کر

انصاف کا لبادہ خرم جمال شاہد
ہنس مکھ کمال سادا خرم جمال شاہد
نیلم کی شان خرم نیلم کی آن خرم
نیلم کی آبرو ہے  ذی  احترام خرم

پرچی یہ ووٹ کی ہے اس قوم کی امانت
ووٹ اس کو دینا دھرتی سے جو کرے محبت
عقلوں پہ ان سبھوں کے پردہ پڑا ہوا ہے
بنتے ہیں بازی گر ہی اکثر
نشان عبرت

انصاف کا لبادہ خرم جمال شاہد
ہنس مکھ کمال سادا خرم جمال شاہد
نیلم کی شان خرم نیلم کی آن خرم
نیلم کی آبرو ہے  ذی  احترام خرم

جس کو وقار بخشا اس نے لگائے گھاؤ
اپنوں کے درمیاں ہو اس بار مسکراؤ
امید و خواب بن کر خرم جمال آیا
پیکر وفاؤں کا ہے آؤ گلے لگاؤ

انصاف کا لبادہ خرم جمال شاہد
ہنس مکھ کمال سادا خرم جمال شاہد
نیلم کی شان خرم نیلم کی آن خرم
نیلم کی آبرو ہے  ذی  احترام خرم

شاعر: لطیف الرحمٰن آفاقی پیرزادہ

Thursday, 30 September 2021

تاریک نگر

تاریک نگر
تحریر ۔۔  محمد صدیق شاذ

ہم فن کے اکابر ہیں  بازو  بھی فولادی
تاریک نگر میں ہم ایک نور بکھیریں گے

انسان جب ہمت و جذبہ سے کام لیتا ہے تو راستے خودبخود بنتے ہیں اور منزلیں انہی کو ملتی ہیں جو جستجو کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہم اہل نیلم پچھلے 72 سالوں سے الجھن کا شکار ہیں ہم دور نگر میں اپنے لیئے لیڈر تلاش کرتے ہیں حالانکہ ہماری ماؤں کا دودھ اتنا بھی کم تر نہیں کہ ہم میں سے کوئی  لیڈر نہ بن سکے یہ مٹی اتنی بھی بنجر نہیں کہ کسی قائد کو جنم نہ دے سکے میرے دیس کی مٹی سونا اگلتی ہے اور ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمارے بزرگوں نے سادگی کا وقت گزارا جس بنا پہ نیلم سے باہر کے لوگوں نے اہلِ نیلم کو ہمیشہ خسارے میں رکھا  ہر آنے والے الیکشن سے قبل جھوٹے دعوے کر کے بازی جیتنے پر اہلِ نیلم کو کالا چونا لگا کر اپنے لیئے بنک بیلنس بٹورتے رہے ۔۔۔۔۔۔ اور ہم چُپ یہ مناظر دیکھتے رہے ۔۔۔۔۔لیکن اب  وقت نے اپنے تیور بدل لیئے نیلم کے ہر نوجوان میں ایک نیا جوش و جذبہ امڈ آیا ہے ہر نوجوان اس دھرتی کا بھلا چاہتا ہے ان شاءاللہ اس بار حسین دھرتی کے حسین نوجوانوں میں سے ایک حسین اور دانشور نوجوان جناب خرم جمال شاہد صاحب جو کہ آمدہ 2021 اسمبلی الکیشن میں بحثیت آزاد امید وار حصہ لیں گے  مجھے امید ہے کہ آپ نوجوان مل کر اس مشن کو کامیاب بنائیں گے اور آئند ہمیشہ کیلئے دل کے کالے لیڈروں سے نجات پائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔میری ایک بار پھر آپ نوجوان طبقہ سے التماس ہے کہ اب جاگنے کا وقت ہے یہ نیلم ہم سبکا ہے ہم اس کے باشندے ہیں اور اس پہ راج بھی ہمارا رہے ۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں اپنے اس مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے ۔۔۔۔۔

Monday, 27 September 2021

دھرتی دا چن

دھرتی دا چن

ماواں بچے جنم دیندیاں ہن تے نالے انھاں دی دلی خواہش ہوندی اے کہ اناں دا پُتر یا دی دھرتی واسطے ہک نامور شخصیت ثابت ہوے انھاں دی اے دعواواں اللہ تعالی سونڑدا تے ہے پر اُس تا حکم اے کہ اے بندے توں جتنی محنت کرسیں اُتناں ہی تینوں پھل ملسی ۔۔۔۔۔۔اسیتوں واضح اے ثابت ہے کہ  دعواواں دے نال نال محنت بھی بوں ضروری اے۔۔۔۔ میں گل کراں اپڑیں نیلم دی تے اے دھرتی خوبصورت تے ہے پر اتھے وسائل نی۔۔۔۔۔۔ آزاد ہویاں بھی تقریباً بہتر 72 سالاں توں زائد عرصہ ہویا لیکن بار دیاں سیاسی چمچیاں اس نوں اندھیر نگر بنڑا رکھیا ۔۔۔۔۔جس دی کُج اساں دیاں اپڑیاں غلطیاں ہن بلکہ اے کینڑا مناسب رےسی ساریاں استیاں غلطیاں ہن ۔۔۔۔۔آغاز توں ہی بلخصوص  دیاں دی تعلیم تے کوئی توجہ نہ دیتی گئی جس دی بدولت اسیں لوک بوں پیچھے رہ گیاں توساں سوچتے ہوسو کہ دیاں دی تعلیم دا ترقی نال  کے تعلق ۔۔۔۔۔مڑیو سنگیو اصل گل اے ہے کہ جس قوم بیچ عورتاں تعلیم توں معبرا ہون او قوم او ملک ترقی نی کردا۔۔۔۔۔۔ حال ہی دی گل اے جدوں پاکستان بنڑیاں تے لوکاں شور پایا جی کہ بابائے قوم توساں اساں کو ہک سونڑا ملک بنڑا دیتا تے ہنڑ اساں کو چنگی قوم بھی دیو۔۔۔۔۔۔ بابے پتا کہ آکھیا اُس فرمایا (آپ مجھے تعیلم یافتہ مائیں دو میں آپکو بہترین قوم دوں گا ) دکھو بابے کتنی ڈونگی گل آکھی۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب دیاں دی پڑھائی نال ملک دی ترقی اے ہنڑ تقریباً  کئی سالاں توں لوک دیاں دی تعلیم تے توجہ دے رہے ہن تے اس دے نتیجے بھی سامنڑیں آنڑ لگے۔۔۔۔۔۔ دھرتی دے ساریاں لوکاں اندر شعور بیدار ہویا لوک اپڑاں حق لینڑا جانڑن لگے ۔۔۔۔۔۔۔اس وری  میں اپر نیلم دیاں  ساریاں لوکاں نوں بلخصوص نوجواناں نوں مبارکباد پیش کرداں جناں آنڑ والے چناؤ ویچ نوجوان نسل دے ترجمان جناب خرم جمال شاہد صاحب دی حمایت دا علان کیتا چونکہ اساں کو اپڑیں دھرتی دے لیڈر دی اشد ضرورت آسی ۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ ماواں دی دعواواں اگر نال رئیاں تے اس وری بھر پور جنگ کرساں۔۔۔۔۔۔۔ توساں ساریاں عزیزاں نوں درخواست اے کہ استی مکمل سپورٹ کریو ان شاءاللہ توساں نوں مایوس نہ ہونڑ دیساں ۔۔۔۔۔ ماواں تے  بینڑاں ساریاں نوں دعا دی اپیل اے کہ اللہ کرے توساں دے لعل تے ویر اے بازی جِت جاوان ۔۔۔۔اللہ ساریاں دا مدگار ریوے دیو اجازت ۔۔۔۔۔
      اللہ دے حوالے

توساں ساریاں دا ویر

انجینئر محمد صدیق شاذؔ
     دودھنیال نیلم ویلی

Sunday, 26 September 2021

کاشر لیڈر تھ کاشر لوکھ

کاشر لیڈر تھ کاشر لوکھ

تحریر:
     صدیق شاذؔ

اہل علم چھ وناں کہ پنین گھریچھ دال تھ لوکن ہیند زردھ سن برابر آساں کیہنھ ۔۔۔۔۔۔لیکن یھ کتھ سن سروائن سمجھ ایواں کنھ ۔۔۔۔۔۔معاشریکھ ہر نفرس پٹھ چھ لازم آساں کہ تُم گسن پنس مُلکس ترقی دِن اور ترقی باپتھ چھ آساں اکھ باوفا تھ باکردار لیڈرس ہنز ضرورت ۔۔۔۔۔وادی نیلمس منز آئھ وارئھ لیڈر لیکن اُم سری ایس نِمبرم  نِم وجہ سیتھ ایس لوکھ رُوئدھ ووٹ دیواں تھ فائدھ ہیوکھ نھ کنھ تُلیتھ اور نُم لیڈر ایس تِمو بھریکھ روپینھ ہندھ ٹھیل تھ کریھ پنن اُلو سِدھ ۔۔۔۔۔۔نموکھ خسار گو سروائن ۔۔۔۔۔شاہ صوب تھ اُوسس کاشر نفر وارئھ کیم کِرن نیلمس منز لیکن مکمل طور پٹھ ہیچن نھ ترقی دیتھ کنھ بس زیاد تر رُود پنن چیلن ہی رجرراواں بہر کیف بہیو لیڈرو نش رُود بہتر ہی ۔۔۔۔۔ اب مسلہ چھ یھ کہ ان شاءاللہ بھریمس وارئھس منز آسن بھ الیکشن تھ نِم ہِل چھوکھ سروھ نوجوانو یہ عہد کرمُت کہ ایس کرون پنین اعلاکوک  نوجوان نفر  جناب خرم جمال شاہد صوب  کھڑا ۔۔۔۔۔نوجوان چھ اکھ باہمت تھ دردِ دل تھاون وُول نفر
۔۔۔۔ مائں طرفن چھ نِم ہل سروائں کاشر نوجوانن گزارش کہ سُون ساتھ دیو  ایس دیمون کنھس نفرس  مایوس گسن ۔۔۔۔۔۔ اکھ ہِل چھو بھ سروائن ماجن تھ بنئن ۔۔۔۔۔بُڈھن تھ بچن سروائں چھ میون پیغام کہ بس اکھ ہِل دیو ایس نوجوانن ہوند ساتھ ایژ وُعمر گئھ تُوہند ساتھ دیواں تھ آزہ اکھ ہِل دیو واں سون ساتھ ۔۔۔۔۔مھ چھ پُور وُمید کہ ایس سیتھ کریو تُوی بھر پور حمایت ۔۔۔۔۔بھیو خدایس حوال ۔۔۔۔۔

ترجم۔۔۔۔۔۔۔

کشمیری لیڈر اور کشمیری لوگ

تحریر :
   صدیق شاذؔ

دانا لوگ ہمیشہ فرماتے ہیں کہ اپنے گھر کی دال دوسروں کی بریانی سے کئی گناہ بڑھ کر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔لیکن مسلہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔معاشرے کے ہر فرد پہ لازم ہوتا ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھر پور ساتھ دے ۔۔۔۔اور ترقی کیلئے ایک وفادار اور باکردار لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وادی نیلم میں کئی لیڈروں نے سیاسی پرچم لہرائے لیکن اگر انہیں اغیار کا نام دیا جائے تو بہتر رہے گا ۔۔۔۔یہاں کے لوگ ووٹ دیتے رہے لیکن فائدہ حاصل نہ ہو سکا ۔۔۔۔لیڈران لکشمی سے تھیلے بھرتے رہے اور قوم کو اُلو بناتے رہے جس کا خسارہ ہم اہل نیلم کو ہوا ۔۔۔۔۔شاہ غلام قادر صاحب بھی ایک کشمیری لیڈر تھے ممکن حد تک انکی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں لیکن مکمل اتفاق نہیں یہ زیادہ تر اپنے چچموں کی پیٹ بوجا میں ہی مگن رہے اب مسلہ یہ ہے کہ آنے والے سال الیکشن میں ہم نے  ایک نوجوان لیڈر جناب خرم جمال شاہد صاحب کا انتخاب کیا ہے جو ایک نڈر اور درد دل رکھنے والے لیڈر ہیں میری طرف سے تمام  اہل نیلم والوں سے گزارش ہے کہ ہمارا ساتھ دیں ان شاءاللہ مایوس نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔۔ایک بار پھر سے ماؤں بہنوں ۔۔۔۔۔بچوں بوڑھوں سب کو میرا پیغام ہے کہ عرصہ دراز سے ہم آپ کے ساتھ چلتے آئے ہیں اب پہلی اور آخری بار ہمارا ساتھ دیں ہمیں پوری امید ہے کہ آپ مایوس نہیں ہونگے ۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ

دیہاتی سیاست

دیہاتی سیاست
تحریر :   انجینئر محمد صدیق شاذؔ

ہر علاقے تے ہر ملک بچ اچھے برے لوگ موجود ہوندے ہن اسی طرح استے علاقے بچ بھی اچھے تے برے لوگ موجود ہن ۔۔۔۔۔۔چونکہ اے ہک نظامِ دنیا ہے ۔۔۔۔۔۔دکھو ہک ما چار پُتراں نوں جنم دیندی ہے لیکن او چاراں دے چار ہک ذہن نی رکھدے اسی طرح ہر علاقے دے اندر سارے لوگ برابر ذہانت نی رکھدے میں اپڑیں علاقے نیلم دی گل کراں جتھے  سیاست دے مختلف نقوش عیاں ہن مطلب سیاست دے مختلف ٹولے بنڑیں دے ہن اے سارے ٹولے زیادہ تر ان پڑھ تے مفاد پرست ہن ۔۔۔۔۔۔اناں دی سیاست  صرف پانڑیں دے پائپاں تے آکے ختم ہوندی اے اے او سیاسی ٹولہ ہے جیڑا ہر گراں بچ لمردار یاوڈیرے بنڑ کے لوکاں نوں چُونا لاندِن تے ان توں بڑا ٹولہ او اے جیڑا ایواناں بچ بے کے ان وڈیریاں نوں چونا لاندن مطلب ووٹ دینڑ والا کھاوے خسماں نوں اناں دا کم چلدے ۔۔۔۔۔۔ستر سالاں تو زائد عرصہ گزر گیا کوئی تبدیلی نی آئی ۔۔۔۔۔۔ اس دی اصل وجہ جیڑی میں دیکھی او آسی تعلیم دی کمی ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہنڑ چند سالاں توں نوجواناں ویچ ہک جوش ابھر دا نظر آریا اے ۔۔۔۔۔۔۔اے جوش دلانڑ والیاں ہستیاں ماواں ہن میں اج نیلم دیاں ساریاں ماواں نو مبارکباد پیش کرداں کہ جناں انڈے ویچ کے جناں اپڑیں چاندے دے ہار ویچ کے اپڑیں بچے پڑھائے یقین منو ماواں دا بہت بڑا کردار اے توساں نوں  شاہد اے انڈیاں والی گل کوڑی لگے لیکن میں اپڑیں زندہ مثال دیندا 2013 ویچ استے گھر دے حالات بوں پتلے ہو گئے اناں دناں آسیں چار  بھائی  زیر تعلیم آسیاں تے کمانڑ والا ہک والد صاحب آسے خرچے پورے ناں ہوندے آسے مڑی ماؤ مڑی اکھاں دے سانمڑیں انڈے تے دیسی بانگی بیچ کے استی فیساں پوریاں کیتی ہن اے ہو جے کم صرف مڑی ہی ماؤ نی کیتے نیلم ویلی دے ہر بچے دی ماؤ پاپڑ بیلے دے ہن تے اج اس گل دی خوشی ہو ری اے کہ ماواں نے اس دا صلہ ملن لگا ۔۔۔۔۔ویکھو ماواں انپڑ آسِیاں لیکن اناں اپڑاں فرض ادا کیتا اے ہنڑ وقت اے بیداری دا سارے نوجوان ہک پلیٹ فارم تے جمع ہو کے اے  بار دے آئے سیاسی چمچیاں دا قلیادان کرو ۔۔۔۔لیڈر اساں بیچ  موجود ہن پر تلاش کرن دی ضرورت اے ۔۔۔۔۔۔ مکو اس واری بے حد خوشی ہوای کہ نیلم دا فرزند نوجواناں دا سجا بازوں اس بار الیکشن واسطے کھڑا ہویا یقین منو کہ دل کردے بس موجواناں دی بیداری واسطے روز تحریراں تے نغمے  لکھاں ۔۔۔۔۔۔  براؤ تے بینڑو اگر توساں سارے چاندے او کہ اے سیاسی ٹولے رفو ہون تے توساں نوں  مڑی گزارش اے کہ اس واری دل کھول کے نوجوان لیڈر جناب خرم جمام شاہد صاحب اُناں نال ٹرو اناں دی مضبوطی توساں نوجوان بینڑ برا ہو گلا بندا کوئی معنی نی رکھدا ۔۔۔۔۔۔ مکو امید ہے کہ اتنی بڑی تحریر پڑن توں بعد توساں اس واری استا مکمل ساتھ دیسو ۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ  ساریاں نوں ہمت جذبہ تے بہتر سوج بوجھ عطا فرماوے۔۔۔۔دیو اجازت ۔۔۔۔۔
        رب دے حوالے

Friday, 24 September 2021

رُت خزاں دی

 رُت خزاں دی 

تحریر: انجینئر محمد صدیق شاذؔ


اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ 

جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا


رُت خزاں دی ہوے یا بہار دی بنڑائے تے سارے موسم اللہ سُنڑ ہن لیکن انسان دی فطرت بچ اے شامل اے کہ او ہمیشہ اپڑیں واسطے آسانیاں تلاش کردا اے ۔۔۔۔انسان دی اے کوشش ہوندی اے کہ چنگی شے ملے ہمیشہ سکھ نصیب ہوے ۔۔۔۔لیکن اس بچ اے سوال ہوندا اے کہ اللہ سنڑ ڈھیر نعمتاں اساں کو دِیتیاں ہن اب او نعمتاں خود آ کے آستی جھولی بچ نہ پوچسن جب تک آسیں اناں واسطے محنت نہ کرساں ہمیشہ او لوگ ترقی کردے ہن جناں دن رات محنت کیتی تے نال فِر اللہ دا شکر ادا کِیتا او لوگ ترقی دی منزلاں تے گامزن رئے ۔۔۔۔اسیں لوگ منزل آنڑ توں پہلے ہی گھبرا جلدیاں جس تا نتیجہ ناکامی ہوندی اے ۔۔۔۔۔اس گل تے مُکو اعجاز رحمانی صاحب دا ہک سونڑاں شعر یاد آیا او فرماندے ہن کہ 

ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو 

ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے 💞💞💞

گل کرن دا اے مقصد اے کہ اسیں لوک شعور نہ رکھدیاں اپڑیں لسی کو کھٹی نی آکھڑاں چاہیدے ۔۔۔۔۔بار دے جتنے بھی اے سیاسی ٹبر ہن استے کیڑے کم دے ووٹ دیواں اسیں تے موجاں کرن اے کیوں جے استا اپڑاں کوئی لیڈر ہوۓیا تے اساں نال اے کم نہ ہون نا ۔۔۔۔۔استی سڑکاں کچیاں نہ ریون نا ۔۔۔۔۔استا نیلم پسماندہ نہ رِوے یا ۔۔۔۔۔کیوں اے اساں لوکوں دی اپڑیں غلطیاں ہن ۔۔۔۔۔ مڑی تے اس واری اپر نیلم دیاں ساریاں لوکاں کو اے گزارش اے کہ اس بار استے گھر دا آدمی نوجوان لیڈر باصلاحیت تے نڈر گھبرؤ جوان الیکشن واسطے تیار ہویا دا اے ت اس واری ڈٹ کے دیو ووٹ اپڑیں براؤ کو فِر دِکھو تاں کے بنڑدے سیانڑے اکھدِن اپڑاں مار کے سائے بچ چھوڑدے تے پرائے جدوں ماردِن فِر دھوپاں بچ سڑناں پیندے اس واسطے دھوپاں بچ نی سڑناں اس واری بھر پور کوشش کرو کہ نوجوان لیڈر جناب خرم جمال شاہد صاحب اگے آون اے کم اساں ساریاں نوجوان مل کے کرنا ہوسی ۔۔۔۔آخر تے رضا ہمدانی صاحب دے شعر نال اجازت دیو اللہ دے حوالے۔۔۔

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے , کنارے 💞💞

Thursday, 23 September 2021

خرم جمال شاہد

 نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے 

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 

خرم جمال شاہد صاحب کا تعلق وادی نیلم آزاد کشمیر کے دور دراز اور پسماندہ ترین علاقہ وادئ گریس سے ہے 

خرم جمال شاہد صاحب گریس ویلی سے تعلق رکھنے والے پہلے نواجوان ہیں جو اب قانون ساز اسمبلی کے لئے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اب تک ہمارے گریس والے صرف نعرے لگانے کا کام ہی سر انجام دیتے رہے 

میری ان سے ملاقات دو ہزار سولہ سترہ میں ہوئی لیکن ملاقات سے پہلے ہی میرے دل میں ان سے عقیدت و احترام کا رشتہ قائم تھا اس کی وجہ ان کی بے لوث سماجی خدمات تھیں سیاست کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے خرم بھائی ایس ڈی او کے نام سے ایک نان گورنمنٹ آرگنائزیشن کے ہیڈ تھے انہوں نے اپنے اس ادارے کے تحت بیشمار سماجی خدمات انجام دیں بلخصوص گریس ویلی جسے گزشتہ تمام منتخب نمایندوں کے علاؤہ دیگر فلاحی اداروں نے بھی پس پشت ڈال کر رکھا وہاں انہوں نے ظالمانہ سلوک اور وادی نیلم سے سوتیلے پن پر مبنی قانونی پابندیوں کے باوجود اپنے ادارے کے تحت بہت سارے فلاحی کام کئے جن میں چند کام سر فہرست ہیں 

◀️ چار سو سے زائد خواتین کو کڑھائی سلائی، دو سو سے زائدمردوں کو مختلف ہنر کی تربیت 

◀️ نیلم ویلی کے ہر یونین کونسل میں ٹوٹل اٹھارہ زچہ بچہ مراکز کے قیام کے ساتھ، کمیونٹی مڈوائف کو ادویات اور انکی تربیت میں مدد فراہم کی گئی۔ 

◀️ دو بڑے میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا گیا جس میں پانچ ہزار سے زائد افراد کا چیک اپ، ٹیسٹ اور ادویات کی سہولت فراہم کی گئی۔

◀️ گریز ویلی میں دو مائکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر 

◀️ دو واٹر سپلائی پراجیکٹس کی تعمیر

◀️ کمیونٹی ماڈل سکول پھولاوئی کے قیام کے بعد اس سال 45 بچوں کو مفت تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔


◀️ برفانی تودوں، آتشزدگی اور بھارتی گولہ باری کے متاثرین کی امداد

◀️ دوسرے نیشنل اداروں کو نیلم ویلی میں مختلف تعمیر و ترقی کے کاموں پر ترغیب دی اور ساتھ رضاکارانہ معاونت بھی کی ہے۔ اس کے علاؤہ بہت سارے فلاحی اداروں سے نیلم میں کام کروائے 

ایسے مخلص اور علاقے کے لئے درد رکھنے والے لوگوں کا میدان میں اترنا علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے بہت اھم ہو سکتا ہے خرم جمال صاحب کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی اپنے ادارے کے ہیڈ تھے دیگر این جی اوز انہیں بھاری تنخواہوں کے عوض اپنے ساتھ کام کرنے کی درخواست بھی کرتے رہے ہر سہولت میسر تھی 

لیکن انہوں نے علاقے کی پسماندگی اور سیاسی مداری حضرات کی نیلم بالخصوص گریس سے سوتیلے پن سے تنگ آکر اس میدان میں عوام کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا اگرچہ یہ فیصلہ انہیں وقتی طور پر کافی مہنگا پڑا اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر میدان میں آئے 

لیکن امید ہے کہ عزم مصمم اور پختہ ارادے سے استقامت سے کام لیتے رہیں گے

 قسمت ہمیشہ بہادروں کا ساتھ دیتی ہے 

امید ہے اللہ پاک انہیں اس میدان میں ضرور کامیابیاں عطا فرمائیں گے 

اللہ پاک خرم جمال شاہد صاحب سمیت وادی نیلم آزاد کشمیر کے تمام درد دل رکھنے والے باشعور نوجوانوں کو کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازے ہمیں ظالم مفاد پرست دھوکے باز عناصر سے بچائے آمین 

اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہو

طالب دعا و دعا گوہ

سید فواد حبیب شاہ

Illegal Harvesting of Medicinal Plants and Recommended Management Policy in Musk Deer National Park Gurez Valley, AJ&K

Illegal Harvesting of Medicinal Plants and Recommended Management Policy in Musk Deer National Park Gurez Valley, AJ&K 1 M...