Monday, 20 September 2021

نوجوان لیڈر (خرم جمال شاہد)

 نوجوان لیـڈر


تحریر:

    انجینئر محمد صدیق  شاذ


ایک ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو اپنے بچے سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور معصوم بچہ بھی اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور جتنی محبت وہ اپنی ماں سے کرتا ہے اُس سے زیادہ محبت دھرتی ماں سے کرتا ہے جو ایک فطری عمل ہے طفلِ ایام میں ہی موقع ملتے ہی پیٹ بھر کے مٹی کھانا اس بات کی شہادت ہوتی ہے کہ ہر وہ انسان جو جہاں جنم لیتا ہے وہ چاہے سرحد کے آر ہو یا پار بے پناہ محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔طفلِ ایام سے نکل کر آنکھوں میں خواب سجائے ہر نوجوان اپنی دھرتی کیلئے کوئی ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو اُس کے والدین اساتذہ اور دھرتی کیلئے نامور ثابت ہو ۔۔۔۔۔اسی طرح میری دھرتی نیلم سے بھی کئی ایسے نوجوان چاند بن کے ابھرے ہیں جنہوں نے ڈاکٹر انجینئر پروفیسر ادیب اور آرمی آفیسر بن کر دھرتی کو چار چاند لگائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ان ہزاروں نوجوانوں میں ایک نوجوان خرم جمال شاہد صاحب ہیں جن کو اللہ تعالی نے علم و عقل کی دولت سے مالا مال کیا ۔۔۔۔۔آپ وہ واحد بے باک نوجوان ہیں جنہوں نے سیاست میں اپنا قدم بڑھا کر تمام نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پہ اکھٹا کیا اور نیلم ویلی سے تمام اہلِ علم نوجوانوں نے انہیں اپنا لیڈر منتخب کر کے بھرپور سپورٹ کرنے کا عہد کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔ہمیں یقین ہے کہ کہ اس بار نوجوان قیادت آ گے آئے گی اور اس قیادت کے لیڈر جناب خرم جمال شاہد صاحب بہترین لیڈ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔نوجوان لوگ ایک ایسے مضبوط ستون کی مانند ہوتے ہیں جو کسی بھی عمارت میں لگ جائیں تو اُسے گرنے نہیں دیتے آئندہ الیکشن میں ہم تمام نوجوان مل کر ایک مضبوط ستون کی مانند کھڑے ہو کر اس دھرتی کا بوجھ اٹھائیں گے پچھلے 72 سالوں میں جو نہ ہو پایا وہ ہم نوجوان کر دیکھائیں گے ۔۔۔۔۔ان شاءاللہ اب کی بار جیت ہماری ہو گی ہم اس دھرتی کے باشندے ہیں اور دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سبکو ہمت جذبہ اتحاد اور ایمان کی دولت سے مستحکم رکھے آمین۔۔۔۔۔۔

Thursday, 9 September 2021

Khurram Jamal Shahid | خرم جمال شاہد


Brief Introduction of Khurram Jamal Shahid (خرم جمال شاہد) 

Mr. Khurram Jamal Shahid is a leading young social worker, belongs Gurez Neelum Valley, AJ&K. He is postgraduate in management (MBA-Finance). He has established a non-profit organization "Sustainable Development Organization (SDO) in 2009 to empower the vulnerable people. Currently he is leading "SDO" as Chief Executive Officer". He remains an active human rights activist, and he has been remained part of different human rights' movement in Pakistan. He founded the Child Rights Movement (CRM) in Azad Jammu & Kashmir in 2013. He has worked in multi-sector (education, health, livelihood, energy, water, environment and advocacy for rights) to empower the people. 


Beside the social work, Mr. Khurram Jamal Shahid is a young politician, and he participated in Azad Jammu & Kashmir Legislative Assembly elections 2021. Being an activist he was founding member of youth organizations, "Kashmir Youth Council" and "Neelum Youth Forum".


He is a writer as well, mostly he has been writing on development sector, social issues and tourism sector.


 

He can be reached at


✅https://www.facebook.com/KhurramAJK

✅https://www.instagram.com/KhurramAJK

✅https://twitter.com/KhurramAJK

Monday, 30 August 2021

کی ستم ظریفی....اور آزاد امیدوار خرم جمال شاہد کی بڑھتی مقبولیت

حکومت کی ستم ظریفی....اور آزاد امیدوار خرم جمال شاہد کی بڑھتی مقبولیت 

تحریر: خلیل زمان تحصیل وادی سرگن نیلم



وادی نیلم عرصہ دراز سے مصاٸب میں گھیری ہوٸی وہ جنت ہے جو ازل سے ہر حکمران کے دلاسوں ۔تسلیوں میں لٹتی رہی جسکی خوبیاں بیان کریں تو القابِ صفت کی کمی۔۔۔اور۔۔دوچار مساٸل کو قلمبند کریں تو برے اطوار کے لیٸے لفظوں کی کمی۔

لیکن قصور واری کا تاج کس کی پیشانی پہ سجایا جاۓ ۔۔۔؟؟؟

 وادی نیلم  کی عوام یہ فیصلہ کرنے میں ہمیشہ سست روی کا شکار رہی 

حکمران ہر دور میں نیلم کی عوام سے حاتم بن طاٸی جیسی رحمدلی۔۔محمد بن قاسم جیسی بہادری کے گن گا کر بھاری اکثریت سے الیکشن جیتنے کے بعد مظفرآباد اسمبلی میں بیٹھ کر کامیابی پہ دعوتوں کی رنگ برنگی ڈشوں کے مزے لینے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔۔وادی نیلم کی عوام پھر سے ان تسلیوں اور اپنی بدقسمتی کی جلد تبدیلی کی امید کے چراغوں کو لہو سے جلا کر راہ تکتی ہے۔مگر وہ لفظی و فرضی مسیحا اس جانب نظرِ کرم نٸے پانچ سالے کے قریبی دنوں میں کرتے ہیں۔۔

ان پانچ سالوں میں وہ پرانے زخموں کو مندمل کرنے کے لیٸے دوا تیار کر لیتے ہیں۔۔۔

مگر لمحہ فکریہ 

یہ ہے پندرہ بیس سال سے یہ رواں سلسلے کب تک مسلط رہیں گے ۔۔۔؟؟؟

آخر نیلم کی عوام کب تک ان جھوٹی تسلیوں میں ۔۔ان مساٸل۔۔ اس ظلم۔۔ اور ان غیر منصفانہ پالیسیوں کی بھینٹ چڑھے رہیگی۔۔۔۔؟؟؟؟

آج کے اس ماڈرن دور میں بھی وادی نیلم کی عوام۔روڈ ہسپتال اور بہتر تعلیمی نظام سے محروم ہے ۔۔

خاص کر وادی سرگن اور گریس کا ایریا ہے جو ایک فٹ برف پڑھنے سے  مارچ اپریل تک بند رہتا ہے اور عوام اپاہیج و مفلوج ہو کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے...

وادی سرگن جو کہ تیرہ گاؤں پچیس ہزار سے زائد آبادی اور تیرہ ہزار رجسٹرڈ ووٹر پر مشتمل ہے 

اس وادی میں سانحہ 13 جنوری 2020 کو جب گلئیشیر میں مکانات اور اموات واقع ہوئیں تو سرگن کی آٹھ کلو میٹر روڈ سانحے کے بیس دن بعد کھولی گئی...؟؟

سرگن بازار 25 اگست 2018 آتشزدگی میں خاکستر ہونے والے ہسپتال کی عمارت آج تک نہ بن سکی عوام در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور....

سرگن تین میگا واٹ بننے والی بجلی ....جسکے ابتدائی تعمیری سٹیج میں سرگن کے لوگوں نے اپنی جائیدادوں کا ضیاع کیا اپنی زمین کو سینے چیر کر پانی کی نالی پاس کروائی آج وہی عوام بجلی کی سہولت سے محروم ہے....

میگا پراجیکٹ پر سرگن کے پڑھے لکھے نوجوان تقرری سے بھی محروم رہے...ان دس سالوں میں سرگن کی عوام ہر سیاسی کھلاڑیوں کے کھیل دیکھ چکی ہے سبھی نے اپنے گھروں کے چراغ جلانے کے لئیے عوام کا خون تیل کی صورت میں سمیٹا ہے ....اگر پھر بھی ان دس سال سے آزمائے ہوئے لوگوں کو نیلم کی عوام ایک بار پھر امتحان لینا چاہتی ہے تو یہ مزید پانچ سالوں کی مایوسیوں کے ملبوسات میں لپٹنے کا ایک اور درد ناک فیصلہ ہوگا.....

سوچوں کے وجود اب نا امیدیوں کے انگاروں پہ جل کے راکھ ہو رہے ہیں

اب کی بار سیاست کے اندر نیلم کے بے باک نڈر اور مخلص قیادتی لیڈر خرم جمال شاہد صاحب میدان میں اتر رہے ہیں جو کہ نیلم یوتھ فورم تحریک کے عہدیدار رہ چکے ہیں  اور بہترین سوشل ایکٹیوسٹ بھی ہیں ہمیشہ انکے قلم کی  نوک عوامی مسائل اور اجتماعی مفادات پر چلتی رہی ہے اور انکے قلم کی سیاہی عوام کو اندھیروں سے نکال کر مزید رنگینیاں بخشنے میں معاون ثابت ہوئی ہے...اور سب سے بڑی بات کے خرم جمال شاہد صاحب نے اپنی الیکشن کمپین کے دوران ووٹ مانگنے جھوٹے تسلی دلاسے اور اٹوٹ وعدوں کے بجائے لوگوں کو اپنے فیصلے کرنے کی ہمت ...شعوری آگاہی...اور نیلم کی ترقی کی تبلیغ کی ...جو کے ناقابل فراموش ہے....!!!


حال میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں آزاد امیدواروں کی کارکردگی نے نمایاں اور منفرد خصوصیات منظر عام پر لائی ہیں جو کہ وہاں کی عوام کے لئیے خوش آئندہ اقدام ہے...

اسی طرح اگر نیلم کے نوجوان بھی پرانی بوسیدہ سیاسی چاپلوسی سے نکل کر آزاد امیداوار نوجوان قیادت کا ساتھ دیں اور قومی امانت ووٹ کی صورت میں کسی دیانتدار شخصیت کو سونپیں تو وہ دن دور نہیں جب نیلم ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو اور عوام کے گلے میں لگے پرانے سیاسی  پھندوں سے چھٹکارا نہ مل جائے  ....اگر انہی پرانے ٹھگ بازوں کی چالوں میں عوام گھومتی رہی اور ایک بار پھر ان گفتاری غازیوں کے دعوں پر یقین کر بیٹھی تو مایوسی مقدر بن جائیگی...

اس

بدلتے دور اور اپنے بدلتے رویوں کیطرح وادی نیلم کی تقدیر بدلنے کے لیٸے غیر متزلزل اقدام آزاد امید وار  نواجوان قیادت کو سپورٹ کر کے سامنے لانے کےلئیےاٹھاٸیں تاکہ جینے کے لیٸے اذیت کی زنجیریں ہمارے گرد حصار تنگ نہ کر سکیں۔۔۔!!


جس وقت اپنی فتح کا پرچم کرو بلند۔۔!!!!

ہاری ہوئی سپاہ کو ہنس کر نہ دیکھنا----------»"    

(شبنم رومانی)

Friday, 27 August 2021

روشن چاند (خرم جمال شاہد)

 روشن چاند

محمدصدیق شاذ

 نوجوان ہر قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور اگر ان کی بھر پور حمایت کی جائے تو یہ سمندر کی لہروں کو چیر کے اپنا راستہ بنا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ملک کو بہترین بے باک اور دردِ دل والا نوجوان ایک ماں ہی میسر کرتی ہے اور میں اپنے علاقہ نیلم ویلی کی تمام ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس خوب ر ُو چمن کو دلیر نوجوان سونپ دیئے اور نوجوانوں کو آفرین کہ جو دن رات اپنی کاوشوں سے دھرتی ماں کو پھولوں کی مالا پہنانے میں مگن ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ (دلیر ماواں دے شیر پُتر) یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اپنی دھرتی کے بہادر سپوت جناب خرم جمال شاہد صاحب پہ فخر ہے جنہوں نے نیلم ویلی کے نوجوانوں کے اندر ایک نیا جذبہ پیدا کیا تمام نوجوانوں کے اندر ایک نئی امنگ پیدا کی نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پہ یکجا کیا اور تمام نوجوان ٹیم کو لیکر دھرتی کو سنورانے کیلئے سیاست کی جانب اپنا قدم بڑھایا عرصہ 72 برس سے اس دھرتی کو ایک بےباک نوجوان لیڈر کی اشد ضرورت تھی جو آج روشن چاند بن کر عیاں ہوا ان شاءاللہ ہمیں اس بار امید ہے کہ اپر نیلم کے تمام عوامِ علاقہ ہمارا بھر پور ساتھ دیں گے اور ہم ان اشاءاللہ ساتھ دینے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہماری تمام ٹیم کو متحد اور دھرتی کا خیر خواہ بنائے ۔۔۔۔۔امین

Sunday, 25 July 2021

اب کی بار، میرا انتخاب ( خرم جمال شاہد)

 اب کی بار، میرا انتخاب

تحریر: ڈاکٹر ارشد ظفر ( کیل وادی نیلم) 

میری وادی کے سادہ لوح دوستو! 

اسلام و علیکم. 

امید ہے آپ سب دوست خیریت سے ہونگے... 

میرے دوستو بحثیت باشعور شہری میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں انتخابات کے اندر اپنے ووٹ کا حق استعمال کروں اور ایسے شخص کو چنوں جو مجھ جیسے متوسط طبقے کا پڑھا لکھا, باشعور, میرے مسائل کو سمجھنے والا میرے لوگوں کے زریعہ معاش, اور مشکلات سے باخوبی واقف ہو. 

میرے دوستو ووٹ ایک امانت ہے اور اسے بطور بھیڑ چال استعمال کرنا سب سے بڑی خیانت ہے. 

میں اپنے زاتی مفاد یا ملازمت کے حصول کے لالچ میں اگر اس امانت میں خیانت کروں تو میری اعلی تعلیم کا مقصد دفن ہو جاتا ہے اور مجھے انسانیت سے نکال کر منافقت کی صفوں میں لا کھڑا کرتا ہے. 

ووٹ کا درست استعمال ہی آپ کی نسلوں کی قسمت کے فیصلے کرتا ہے. 

میری عمر 35 برس گزر چکی ہے اب کی بار مجھے چوتھی بار حق راہ دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا مگر اس سے پہلے میں شعور کا استعمال کم اور خاندان کی قربت کا احساس زیادہ کرتا تھا. اب کی بار میرا خاندان جو بھی فیصلہ کرے مگر میں اپنے ووٹ کو ایک مقدس امانت سمجھتے ہوے صحیح حقدار تک پہنچانے کا وعدہ کرتا ہوں. 

آزاد کشمیر الیکشنز میں کچھ ماہ باقی ہیں میں اپنی خاندانی سیاسی وابسطگیوں کو بالا طاق رکھتے ہوے اس امانت میں خیانت نہیں کرونگا. 

میرے لئے اس چناو میں حصہ لینے والے تمام افراد نہائت ہی قابل احترام ہیں مگر اب کی بار مرا چناؤ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا تعلیم یافتہ عام سا نوجوان ہو گا. میرے عقل و فہم کے مطابق یہ نوجوان میرے مسائل اور ان کے سدباب سے جس قدر واقف ہے شاید ہی پرانے سیاسی واقف ہوں اور اگر وہ واقف تھے تو جان بوجھ کر میرے علاقے اور اعوام کے ساتھ کی ہوئی ایک ایک زیادتی وظلم کا حساب لینے کا وعدہ کرتا ہوں... 

میں آپ سب کو گواہ بنا کر یہ عہد کرتا ہوں روز محشر میرا ہاتھ ان کے گریبان پر ہو گا. 

اب تک خرم جمال ہی ایک ایسا لڑکا ہے جو میرے معیار پہ پورا اترتا ہے. 

میری اس سے زیادہ وابسطگی تو نہیں مگر جتنا اسے کے بارے میں جانا اتنا بہتر پایا. مجھے اپنے حریف پر تنقید کرنے والا ناپسند ہے اور امید کرتا ہوں خرم جمال شاہد کسی پر تنقید کے بجائے اپنے منشور پہ توجہ دے گا. اور نہ ہی کسی سیاسی درندے کا مہرہ بنے گا. 

میری اس سے صرف دو ملاقاتیں ہیں کوئی گہری دوستی نہیں ہاں مگر احترام کا رشتہ ہے.

ضروری نہیں کہ آپ مجھ سے اتفاق کریں مگر اپنی عقل کے مطابق خداہ کو گواہ بنا کر اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں. 

میرے ارادے میرا عزم... درست انتخاب.

Wednesday, 7 July 2021

تبدیلی

وقت  آنے  دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

گزشتہ ستر برس گزر گئے کوئی تبدیلی نظر نی آئی آنڑ والے ہر الیکشن بِچ ہر لیڈر اے یقین دہانی کراں دا ہے کہ اسیں نظام بدلساں لیکن وقت گزرنڑ توں بعد فِر اوئی ہال ہوندا ہے جیڑا ستر سالاں تو ہو ریا ہے آفسوس کہ اسیں لوک اتنے احمق کیوں بنڑ دے ہاں کہ اپڑیاں ہی ہتھاں نال اپڑیں بچیاں دا گلا کپ چھوڑدیاں ۔۔۔۔۔میں توساں کو دساں او علاقے دیو وڈیریو اے نظام کدوں بدلسی آخر کدوں تک اے ہی نظام چلدا ریسی ۔۔۔۔مکو اج بڑا دکھ ہویا کہ ہر بندا اپڑیں مفاد دی خاطر ووٹاں دی خاطر لڑائی جھگڑے کر ریا ہے ۔۔۔۔او دھرتی دے ظالم پُترو پانڑیں نلکے تے ٹینکیاں والی سیاستاں کو الوداع کرو بس ہنڑ بہت ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔اے ظلم مزید برداش نہ ہوسی نکلو گھراں توں نوجوان لیڈر خرم جمال شاہد صاحب کو کرو سپورٹ اناں دا ذاتی مفاد کوئی نی او ملک تے اساں نوجواناں دے حقوق دی جنگ لڑن واسطے میدان بچ نکلے ہہن اج اگر گھراں توں ناں نکلسو تے ساری عمر اسی گرداب بچ پھسے ریسو ۔۔۔۔۔مکو اج فخر ہےاپر حلقہ تو راہ حق پارٹی تے کہ جناں دا پارٹی کنڈیڈیٹ نہ ہونڑ دی وجہ تے استی جماعت خرم جمال شاہد آزاد امیدوار تے الیکشن 2021 بچ بھر پور سپورٹ کرن دی یقین دہانی کیتی شکریہ راہ حق والو توساں دی محبتاں اگر نال رِیاں تے ان شاءاللہ اے بازی جِت کے رِساں ۔۔۔۔
اللہ حافظ ۔۔۔
انجینئر محمد صدیق شاذؔ

Thursday, 1 July 2021

لیڈر ہمارا (خرم جمال شاہد)

لیڈر ہمارا


سبھی نوجوانوں نے مل کے پکارا
سنو !  بارہ  سنگا  نشاں  ہے ہمارا


یہ دھرتی کی آباد نسلوں نے بولا
دلوں میں ہمارے  جگا ایک شعلہ


چلے گھرسےپرچم کی دستارلے کر
وہ ڈھل جھیل کےسارےگل ہار لےکر


امن  کا  محبت  کا، پیغام دے کر
نکالا  دلوں  سے  ہے فرعون کا ڈر


یہ ہمت یہ جذبہ دلوں میں ہمارے
بسایا  جس نے سنو آپ پیارے


وہ نیلم کی دھرتی کا ہے ایک تارا
خرم  نام   اس   کا  وہ لیڈر ہمارا

محمد صدیق شاذؔ

Monday, 28 June 2021

یہ خوبصورت ڈاڑھی والا (خرم جمال شاہد)

❤یہ خوبصورت ڈاڑھی والا❤
تحریر: مقصود احمد شاہین
لفظوں میں سچائی ہو تو دلائل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بڑے عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جن کا ظاہر و باطن ایک سا ہوتا ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ایسے لوگ دنیا سے ناپید ہو چکے ہیں بس بات ہے اپنے من کی دیکھیے اس سے کیا دکھتا ہے ۔
کچھ لوگوں کا کمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی مختصر سی ملاقات میں وہ تاثر چھوڑ جاتے ہیں کہ ملاقاتی برسوں بھول نہیں سکتے ۔ ایسے ہی ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی جسے ہم حقیقتاً پہلی ملاقات کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن یہ بھی نہیں کہ یہ چہرہ ہم سے اجنبی ہو بل کہ یہ گھنی گھنیری اورخوبصورت ڈاڑھی اور اہلکی ااورباریک سی موچھوں اسی طرح کی پتلی پتلی بھنووں والا شخص کہیں بار دو چار گام سے دیکھا۔ بلکہ ایک بار تو موصوف نے چند فٹ کی دوری سے ہمارا نام لے کر مخاطب بھی کیا تھا۔ خیر یہ اس کا ظرف کے اس نے کس چاہت سے ہمیں مخاطب کیا تھا ۔ لیکن ہمیں ظاہری پتلے پتلے نقوش دیکھ کر یہ اندازہ ہر گز نہیں تھا کہ ایسی کمزور جسامت والا من میں کتنے لطیف مزاج رکھتا ہے اور کسی قدر کے میٹھے اور دل موہ لینے والا جذبات رکھتا ہے۔ وہ ارادوں کا کتنا پکا ہے, وہ عہد وفا کرنے کے کتنے عزائم رکھتا ہے۔ وہ تنہا بھی طوفان سے ٹکرانے کی ہمت رکھتا ہے, ان سب احساسات جذبات اور قوی ارادوں کا پتہ کچھ دیر مل بیٹھنے سے ہی چلا ۔
شعبے کے لحاظ سے طالبعلم سیاسی حیثیت سے پارٹی میں    صدرکالیول  سماجی ہمدردیاں دل میں سموئے ہوئے حالات کے ایسے منجدھار میں کھڑا جہاں سے کسی وقت بھی ہوا کا جھونکا قدم لڑکھڑا سکتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں کیوں کہ پختہ عزم کیے ہوئے ناخداوں کے بجائے خدا پر بھروسہ کیے جانب منزل رواں دواں ہے ۔
کیا پرکشش صورت کے ساتھ نیک سیرت پائی کہ پندرہ بیس منٹ کی ملاقات میں کسی بھی سیاسی حریف کی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے اس کی شخصیت پر حرف آتا ہو بلکہ ہمارے کریدنے پر اس نے ہر آدمی کی اچھائی ہی بیان کی جب کہ ہم سوچ رہے تھے سیاسی یا نظریاتی اختلاف کی بنا پر کسی ایک کا دامن داغ دار کریں گے لیکن آپ اسے ہماری کم ظرفی کہہ لیں کے ہم ایک ایسے آدمی سے ایسی امید کیے بیٹھے تھے جو ہر قسم کے بغض و عناد سے مبرّا ہے ۔  سیاسی اتار چڑھاؤ کے  پیشِ نظر ہم نے جب یہ کہا آپ کے بہت سے عزیز و اقارب کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کر رہیں ہیں تو ایسے حالات میں آپ کا کیا خیال ہے ۔ بھرے بھرے سے پیوٹے اٹھا کر کہنے لگے ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کی پارٹی میں جائے ،بس اس میں اس چیز کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ ملکی معیشت اور سالمیت پر آنچ نہ آئے۔ ہم نے سوال دھراتے ہوئے کہا ہمارا سوال یہ تھا کہنے لگے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں تو سنییے اس وقت تک میرے قریبی عزیز و اقارب میرے ساتھ ہیں اگر کل ایسا وقت آ بھی جائے کہ یہ بھی مجھے اکیلا چھوڑ جائیں تو تب بھی میں اپنامشن نہیں چھوڑوں گا، ان کا جواب سن کر جب ہم نے وجہ معلوم کرنا چاہی تو کہنے لگے اسے ہماری وفا کہہ لیں اور وہ بھی مطلوب انقلابی کے کفن سے کیوں کہ مطلوب انقلابی ہی ایسا لیڈر تھا جس نے طبقاتی نظام کے بجائے نظریات پر سیاست کی ہے اور اس کا نظریہ بھائی چارے کو فروغ دینا تھا بھلا ایسے درویش منش انسان کے نظریے سے کون منحرف ہو سکتا ہے ۔
ہاں جی یہ سچے جذبوں کا امین میرےدل کامکین جناب خرم جمال شاھدتھا جس کی بنفس نفیس ہم سے پہلی ملاقات تھی لیکن اثرات برسوں کے لیے مرتب کر گئی انکےلیے ہم اتنا ہی کہہ سکے کہ خدا سدا کے لیے ارادوں میں استقامت بخشے۔

نوجوانان توحید وسنت نیلم کےترجمان کی حیثیت سے میں اورمیری پوری ٹیم آپ کےلیے دعاء گوہیں کہ مولاکریم قدم بقدم کامیاب وکامران سرفرازو سربلند فرمائے(آمین)

مقصود احمد شاہین
شاھین قلم سے✍🏻

Sunday, 20 June 2021

Khurram Jamal Shahid

Khurram Jamal Shahid

Khurram Jamal Shahid is a young writer and researcher. He has written research papers on social issues, providing better social services to the people and development. He has written mostly articles on development, social issues and tourism. Writes content for social media, blogs and other websites.

Khurram Jamal Shahid is a young politician. He has been raising his voice for public rights on every platform and has always played a positive role in resolving these issues. He has contested the 2021 Azad Jammu and Kashmir Legislative Assembly elections. As a social and political activist, he has always played a role in organizing the youth and fighting for people's rights. In this regard, he established the founding members of "Kashmir Youth Council" and "Neelum Youth Forum" and today these forums are engaged in the struggle for civil rights.

Khurram Jamal Shahid is a well-known young social worker from Neelum Valley, Azad Jammu and Kashmir. He is a post graduate in Management (MBA-Finance). He founded the Social Institution “Sustainable Development Organizaion” in 2009 to empower vulnerable people and improve their lives. As the Chief Executive Officer of the same social organization since 2009, he has been active in improving the lives of thousands of people. He has been a human rights activist, and has been part of various human rights movements in Pakistan. He founded the Child Rights Movement in Azad Jammu and Kashmir in 2013 for children's rights. Services have been provided in various sectors (education, health, livelihood, energy, water, environment and rights) to empower people.

 
He can be reached at
https://www.facebook.com/KhurramAJK
https://www.instagram.com/KhurramAJK
https://twitter.com/KhurramAJK

 

 

Wednesday, 12 May 2021

نیلم کی شان ہے خرم جمال

نیلم کی شان ہے خرم جمال
ہر ایک کا دل جان خرم جمال

جری ہے بہادر ہے تو ہے
     قول کا سچا

تجھ پہ تو ہمیں مان ہے
خرم جمال

کیا عزم ہے تیرا کیا تیری ادا ہے
ہر ایک کی تو جان ہے خرم جمال

تو نیلم کا ہے دمکتا ہوا تارا
   اک تیری عجب شان ہے
       خرم جمال

ہر جیت تیری جیت ہے
   خرم جمال

ہر دل کا سلطان ہے خرم جمال
مولا کے ساۓ میں رہے ساری عمر

خدا تیرا نہگبان ہے خرم جمال

Wednesday, 5 May 2021

میرے یاروں کا ؟ کچھ نہیں ہو گا ؟

میرے یاروں کا ؟ کچھ نہیں ہو گا ؟
غم کے ماروں کا ؟ کچھ نہیں ہو گا ؟

اب ہمیں ڈوبنا پڑے گا
اب کناروں کا کچھ نہیں ہو گا !

آپ صحرا کو سبز کر دیں گے
آبشاروں کا کچھ نہیں ہو گا ؟

نامرادوں کو سب ملے گا مگر
غمگساروں کا کچھ نہیں ہو گا

اک عدد گونج نے سوال کیا
کوہساروں کا کچھ نہیں ہو گا ؟

اب مجھے کوئی بھی نہیں درکار
اب سہاروں کا کچھ نہیں ہو گا ؟

ہم کو اب زندگی ملے گی فقط ؟
اب خساروں کا کچھ نہیں ہو گا ؟

زرد ہوتا ہوا بدن بولا !!
اب بہاروں کا کچھ نہیں ہو گا !

آپ کو روشنی پسند نہیں !
چاند تاروں کا کچھ نہیں ہو گا ؟

ہر کوئی خوش رہے گا مگر
ہم بچاروں کا کچھ نہیں ہو گا !
💔

Illegal Harvesting of Medicinal Plants and Recommended Management Policy in Musk Deer National Park Gurez Valley, AJ&K

Illegal Harvesting of Medicinal Plants and Recommended Management Policy in Musk Deer National Park Gurez Valley, AJ&K 1 M...